ادب گاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکاں ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - تعلیم و تربیت کی جگہ، مدرسہ۔ "یہ مقام تمام یورپ اور تمام اسلامی و عیسائی دنیا کا ادب گاہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، روزنامۂ سفر، حسن نظامی، ١٢٧ ) ٢ - جہاں کسی کو سزا اور تنبیہ کے لیے رکھا جائے۔  دل اور دھڑکتا ہے ادب گاہ قفس میں شاید یہ زباں تشنۂ فریاد رہے گی      ( ١٩٥٧ء، یگانہ، گنجینہ، ٨١ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ 'اَدَب' کے ساتھ 'گاہ' فارسی سے بطور لاحقۂ ظرفیت لگایا گیا ہے۔ اصل میں 'گاہ ادب' ہے۔ صنعت تقلیب استعمال کی گئی ہے۔

مثالیں

١ - تعلیم و تربیت کی جگہ، مدرسہ۔ "یہ مقام تمام یورپ اور تمام اسلامی و عیسائی دنیا کا ادب گاہ ہے۔"      ( ١٩١١ء، روزنامۂ سفر، حسن نظامی، ١٢٧ )